تمہاری زلف کے چرچے پریشانیوں میں رہتے ہیں

Radhe Shiyam Rastogi Ahqar

تمہاری زلف کے چرچے پریشانیوں میں رہتے ہیں

مری دیوانگی کے ذکر دیوانوں میں رہتے ہیں

نہیں پروائے ایماں کافران عشق کو ہرگز

انہیں کعبہ سے کیا مطلب جو بت خانوں میں رہتے ہیں

تلاش اس رشک لیلیٰ کی جو رہتی ہے ہمیں ہر دم

اسی سے قیس کے مانند وہ ویرانوں میں رہتے ہیں

میان محفل احباب ہے وہ شمع کی صورت

ہم اس سے لو لگائے اس کے پروانوں میں رہتے ہیں

فلک سے بڑھ کے رتبہ ہو نہ کیوں کر قصر جاناں کا

ملائک جس جگہ ادنیٰ سے دربانوں میں رہتے ہیں

عجب ہے نیک صحبت کی نہ ہوتا سیر انساں میں

مہذب بنتے ہیں حیوان جو انسانوں میں رہتے ہیں

نہ ہو مضمون عالی کیوں بھلا اشعار احقرؔ میں

سخن دانوں سے صحبت ہے زبان دانوں میں رہتے ہیں