بچھڑ کر اب ذرا آزار کھینچو

Saa’in Alig

بچھڑ کر اب ذرا آزار کھینچو

تم اپنے دل میں اک دیوار کھینچو

بھلا لوگوں سے کیسا ڈر چلو بھی

کوئی دامن سر بازار کھینچو

حیات اپنی سفر ہے اک مسلسل

اٹھو پیروں سے اپنے خار کھینچو

محبت جس طرح چاہو جتاؤ

مگر یہ کیا مرے رخسار کھینچو

مرے ہاتھوں میں گل ہیں اور فقط گل

مرے یارو نہ تم تلوار کھینچو

ارے صائنؔ نشے سے فیض پاؤ

چلو واعظ کی اب دستار کھینچو