اپنے کو آغاز کو انجام میں پایا ہم نے
Rafat Shameemاپنے کو آغاز کو انجام میں پایا ہم نے
راز کیا پردۂ ابہام میں پایا ہم نے
کھو گیا تھا جو کبھی بھیڑ میں چہروں کی اسے
اپنی تنہائی کی ہر شام میں پایا ہم نے
ریت بھرتے رہے آنکھوں میں سرابوں کی سدا
عذر جینے کا اسی کام میں پایا ہم نے
کتنے شیریں لب ناگفتہ مگر تھے اس کے
لطف کچھ اور ہی دشنام میں پایا ہم نے
تم تو ڈھونڈا کیے امید و یقیں میں اس کو
دل کی ہر خواہش ناکام میں پایا ہم نے