اب طبیعت کہاں روانی میں
Rafat Shameemاب طبیعت کہاں روانی میں
کشتی ٹوٹی ہے ٹھہرے پانی میں
وقت یوں تھم گیا ہے آنکھوں میں
دائرے جم گئے ہوں پانی میں
گھر ہی اندر سے لٹ گیا سارا
ہم تو باہر تھے پاسبانی میں
لطف موسم کا کیا اٹھاتے ہم
دل ہمیشہ رہا گرانی میں
ہم تو خوش فہمیوں میں جیتے ہیں
خوب مطلب ہے بے زبانی میں