دکھاتے ہیں ادا کچھ بھی تو آفت آ ہی جاتی ہے

Radhe Shiyam Rastogi Ahqar

دکھاتے ہیں ادا کچھ بھی تو آفت آ ہی جاتی ہے

سنبھل کر لاکھ چلتے ہیں قیامت آ ہی جاتی ہے

محبت میں ہیں صبر و شکر کے ہر چند ہم قائل

مگر کچھ کچھ کبھی لب پر شکایت آ ہی جاتی ہے

جو سچ پوچھو تو ہیں عاشق بھی پیرو نازنینوں کے

بدن میں ناتوانی سے نزاکت آ ہی جاتی ہے

مجاز اک پردۂ ادراک ہے تو چشم بینا کو

کسی صورت نظر شکل حقیقت آ ہی جاتی ہے

نہیں جذب دل عاشق سے ہے معشوق کو چارہ

اگر بے درد بھی ہو تو محبت آ ہی جاتی ہے

بتان سیمتن کے وصل سے ہم فیض پاتے ہیں

وہ آتے ہیں تو اپنے گھر میں دولت آ ہی جاتی ہے

ترے اشعار رنگیں سے بھلا فرحت نہ ہو احقرؔ

کہ ان پھولوں سے خوشبوئے فصاحت آ ہی جاتی ہے