آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھ

Radhe Shiyam Rastogi Ahqar

آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھ

ماہ کو تولے گا شاید اپنی رعنائی کے ساتھ

سیر کر عالم کی غافل دیدنی ہے یہ طلسم

لطف ہے ان دونوں آنکھوں کا تو بینائی کے ساتھ

دل کہیں ہے جاں کہیں ہے میں کہیں آنکھیں کہیں

دوستی اچھی نہیں محبوب ہرجائی کے ساتھ

اس میں ذکر یار ہے اس میں خیال یار ہے

اپنی خاموشی بھی ہم پلہ ہے گویائی کے ساتھ

عہد پیری میں وہ عالم نوجوانی کا کہاں

ولولے جاتے رہے ساری توانائی کے ساتھ

دیدۂ آہو کہاں وہ انکھڑیاں کالی کہاں

کیا مقابل کیجیے شہری کو صحرائی کے ساتھ

دل نہیں گرگ بغل ہے ضبط سے خوں کر اسے

کار دشمن کرتے ہیں اے دوست دانائی کے ساتھ

ایک بوسہ پر گریباں گیر اے ناداں نہ ہو

تیری رسوائی بھی ہے عاشق کی رسوائی کے ساتھ

دل تو دیوانہ ہے احقرؔ تو بھی دیوانہ نہ ہو

کوئی سودائی بنا کرتا ہے سودائی کے ساتھ