در کسی کا کھلا نہیں لگتا
Rafat Shameemدر کسی کا کھلا نہیں لگتا
شہر یہ آشنا نہیں لگتا
غم ہے فکر معاش میں ایسا
آدمی کا پتا نہیں لگتا
دوست جب سے ہوئے ہمارے تم
کوئی دشمن برا نہیں لگتا
یوں تو ملتے ہیں ٹوٹ کر لیکن
ربط وہ دیر پا نہیں لگتا
وعدہ حوروں کا بعد مرنے کے
بندگی کا صلا نہیں لگتا