اب دور تلک یاد کا صحرا ہے نظر میں

Qaisar Abbas

اب دور تلک یاد کا صحرا ہے نظر میں

کچھ روز تو رہنا ہے اسی راہ گزر میں

ہم پیاس کے جنگل کی کمیں گہ سے نہ نکلے

دریائے عنایت کا کنارہ تھا نگر میں

کس کے لیے ہاتھوں کی لکیروں کو ابھاریں

اپنا تو ہر اک پل ہے ستاروں کے اثر میں

اب خواب بھی دیکھے نہیں جاتے کہ یہ آنکھیں

بس جاگتی رہتی ہیں ترے سایۂ در میں

کس کے لیے پیروں کو اذیت میں رکھا جائے

خود ڈھونڈ کے تنہائی چلی آئی ہے گھر میں

پھر ظل الٰہی کے سواروں کی صدا آئی

پھر کون ہوا مورد الزام نگر میں

قیصرؔ بھی صلیب اپنی اٹھائے ہوئے گزرا

کہتے ہیں کہ خوددار تھا جینے کے ہنر میں