ہنستا ہے بار بار مرا یار دیکھ کر
Parvez Anjumہنستا ہے بار بار مرا یار دیکھ کر
مجھ کو مصیبتوں میں گرفتار دیکھ کر
یہ کاروبار شوق ہے وہ صاحب ہنر
سامان بیچتے ہیں خریدار دیکھ کر
وہ ہر قدم پہ ٹھوکریں کھاتے ہیں بارہا
چلتے نہیں جو وقت کی رفتار دیکھ کر
پژمردہ پھول ہے وہ اسی نو بہار کا
پتھر نہ پھینکو طنز کا بے کار دیکھ کر
وہ لوگ پاسبان حرم ہو نہ پائیں گے
جو بھاگتے ہیں لشکر کفار دیکھ کر
حیرت زدہ رہے گا وہ میدان حشر میں
جو مجھ کو ٹوکتا تھا گنہ گار دیکھ کر
پیارے نبی کے نطق کا اعجاز دیکھیے
کنکر بھی کلمہ پڑھتے ہیں گفتار دیکھ کر
انجمؔ وطن کی یاد بھی شدت سے آ گئی
اک مادر غریب کو بیمار دیکھ کر