کر دعائیں کہ دعاؤں میں اثر ہوتا ہے

Parvez Anjum

کر دعائیں کہ دعاؤں میں اثر ہوتا ہے

محنتی ہاتھ کے حصے میں ثمر ہوتا ہے

اب فقیروں کو وہی ٹال دیا کرتے ہیں

مال و دولت سے بھرا جن کا بھی گھر ہوتا ہے

آدھا پانی ہو گھڑے میں تو چھلکتا ہے بہت

جھک ہی جاتا ہے جو پھل دار شجر ہوتا ہے

ان چٹانوں کو بدل دیتا ہے فن پاروں میں

مہرباں جن پہ بھی وہ جان ہنر ہوتا ہے

منتظر بیٹھے ہیں رستے میں بچھا کر آنکھیں

دیکھنا یہ ہے کہ کب ان کا گزر ہوتا ہے

ظلم کی آگ کو اتنا نہ ہوا دو انجمؔ

کانپ اٹھتی ہے زمیں ظلم اگر ہوتا ہے