طالب خدا سے عدل کے خواہاں کرم کے ہیں

Radhe Shiyam Rastogi Ahqar

طالب خدا سے عدل کے خواہاں کرم کے ہیں

مظلوم ہم بتوں کے جفا و ستم کے ہیں

امید وار جاہ نہ طالب حشم کے ہیں

ہم بادشاہ کشور عشق صنم کے ہیں

دنیا سرا ہے ہم ہیں مسافر ٹھہر گئے

ملک بقا سے آئے ہیں عازم عدم کے ہیں

دل بھی جگر بھی جان بھی سینہ بھی عشق میں

یہ سب مکان صدمہ و درد و الم کے ہیں

طالب ہیں گنج وصل کے اک سمت میں سے یہ

احقرؔ تو آج پھیر میں گہری رقم کے ہیں