ٹوٹ کر عالم اجزا میں بکھرتے ہی رہے

Rafat Shameem

ٹوٹ کر عالم اجزا میں بکھرتے ہی رہے

نقش تعمیر جہاں بن کے بگڑتے ہی رہے

اپنے ہی وہم و تذبذب تھے خرابی کا سبب

گھر عقیدوں کے بسائے تو اجڑتے ہی رہے

جانے کیا بات ہوئی موسم گل میں اب کے

پنکھ پنچھی کے فضاؤں میں بکھرتے ہی رہے

چند یادوں کی پناہ گاہ میں جانے کیوں ہم

سایۂ شام کی مانند سمٹتے ہی رہے

ہم نے ہر رنگ سے چہرے کو سجایا لیکن

اپنی پہچان کے آثار بگڑتے ہی رہے