دیکھ اب تو میرا دشمن بھی کہے کیا بات ہے

Saa’in Alig

دیکھ اب تو میرا دشمن بھی کہے کیا بات ہے

اب تو میرے پاس آ کر پوچھ لے کیا بات ہے

بس اسی حسرت کے چلتے میں تو ہوں شاعر بنا

میں سناؤں شعر اس کو وہ کہے کیا بات ہے

اس قدر یہ مہربانی ان دنوں مجھ پہ خدا

مل رہے ہیں بن دعا ہی غم مجھے کیا بات ہے

اے مسیحا تیرے ہاتھوں کی شفا کو کیا ہوا

تیرے ہوتے زخم میرے ہیں ہرے کیا بات ہے

تم تو کہتے تھے کہ میرے قرب میں ہے اک سکوں

آج کیوں ہیں درمیاں یہ فاصلے کیا بات ہے

آج صائنؔ یاد کرتے ہیں مجھے احباب کیوں

سوچتا ہوں پوچھ لوں کس کام سے کیا بات ہے