آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہے

Rafat Shameem

آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہے

خواب کی ریت میں سورج کا شجر بوتی ہے

ایک گمنامی کا جنگل ہوں جہاں شکل مری

اپنی پہچان کا ہر نقش یقیں کھوتی ہے

دور ان دیکھی سی سرحد ہے کہ جس کے اس پار

کوئی بستی ہے جو راتوں کو سدا روتی ہے

سطح چادر پہ شکن اور سر بالیں پہ نشیب

یہ تو تنہائی ہے بستر پہ مرے سوتی ہے

بھولی بسری ہوئی یادوں کی عجب بھیڑ ہے جو

دل کے دروازے پہ ہر شام لگی ہوتی ہے