اے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہو
Radhe Shiyam Rastogi Ahqarاے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہو
میں اک گدائے عشق ہوں سلطاں تمہیں تو ہو
پہونچی ہے آسماں پہ تجلی جمال کی
کہتے ہیں لوگ مہر درخشاں تمہیں تو ہو
سچ سچ یہ کہہ رہا ہے تناسخ کا مسئلہ
روح عزیز یوسف کنعاں تمہیں تو ہو
آگے تمہارے سرو ہے غیرت سے پا بہ گل
صحن چمن میں سرو خراماں تمہیں تو ہو
ہر بات پر بگڑتے ہو رندوں سے شیخ جی
سارے جہاں میں ایک مسلماں تمہیں تو ہو
دل میرا لے کے تم نے کھلونا بنا لیا
دنیا میں ایک طفلک ناداں تمہیں تو ہو
باتوں میں سحر چال میں محشر نگہ میں قہر
ثابت ہے ان سے فتنۂ دوراں تمہیں تو ہو
دل دے کے تم کو کیوں نہ کہوں مایۂ حیات
میرے جگر تمہیں ہو مری جاں تمہیں تو ہو
مداح ہوں تمہارے نہ کس طرح حق پسند
احقرؔ بتوں کے ایک ثنا خواں تمہیں تو ہو