اے رب کائنات مجھے لے پناہ میں

Saa’in Alig

اے رب کائنات مجھے لے پناہ میں

بہتا ہی جا رہا ہوں خلیج گناہ میں

تصویر شب میں حکمت حاکم تو دیکھیے

کھلتا ہے نور ماہ لباس سیاہ میں

ان کی گلی میں آ تو گئے ہیں مگر یہ دل

کرتا ہے ضد کہ آئیے ان کی نگاہ میں

بے سود ہے یہ علم و ذہانت یہ فلسفہ

سمجھیں اگر نہ فرق سفید و سیاہ میں

لے کر پرانی سانس کو دیتی ہے پھر نئی

قوت کہاں سے آئی ہے ایسی گیاہ میں

صائنؔ غزل پہ داد ملی ہے تو خوش نہ ہو

کچھ اور ہی چھپا ہے رفیقوں کی واہ میں