اے رب کائنات مجھے لے پناہ میں
Saa’in Aligاے رب کائنات مجھے لے پناہ میں
بہتا ہی جا رہا ہوں خلیج گناہ میں
تصویر شب میں حکمت حاکم تو دیکھیے
کھلتا ہے نور ماہ لباس سیاہ میں
ان کی گلی میں آ تو گئے ہیں مگر یہ دل
کرتا ہے ضد کہ آئیے ان کی نگاہ میں
بے سود ہے یہ علم و ذہانت یہ فلسفہ
سمجھیں اگر نہ فرق سفید و سیاہ میں
لے کر پرانی سانس کو دیتی ہے پھر نئی
قوت کہاں سے آئی ہے ایسی گیاہ میں
صائنؔ غزل پہ داد ملی ہے تو خوش نہ ہو
کچھ اور ہی چھپا ہے رفیقوں کی واہ میں