کس چمن پہ گرنا ہے بجلیاں سمجھتی ہیں

Parvez Anjum

کس چمن پہ گرنا ہے بجلیاں سمجھتی ہیں

شاخ گل کی طاقت کو آندھیاں سمجھتی ہیں

کون پھول کیسا ہے باغبان کیا جانے

پھول کی لطافت کو تتلیاں سمجھتی ہیں

صرف تازہ خبروں پر اعتماد مت کرنا

کس کا بھاؤ کتنا ہے منڈیاں سمجھتی ہیں

کون آنے والا ہے اس غریب خانے میں

میرے دل کی حالت کو سسکیاں سمجھتی ہیں

آج کل کے بیٹے تو کچھ سمجھ نہیں پاتے

باپ کی جفا کاری بیٹیاں سمجھتی ہیں

میرے دل کو نسبت ہے اب بھی ایسی پریوں سے

جو مری دعاؤں کو گالیاں سمجھتی ہیں

ہچکیوں سے ملتی ہے یاد کی جھلک انجمؔ

نبض کی حرارت کو انگلیاں سمجھتی ہیں