اس طرح دنیا کے دل میں گھر بنا
Saadat Aabidiاس طرح دنیا کے دل میں گھر بنا
اپنی طرز گفتگو بہتر بنا
سوچ سے ہے ارتقائی انقلاب
سوچ کو اپنی نہ تو پتھر بنا
جس کے گرد و پیش گھومے کائنات
ہو سکے تو خود کو وہ محور بنا
روشنی جتنی بنائی آپ نے
یہ اندھیرا اور طاقت ور بنا
ہر طرف کار حفاظت دیکھ کر
اور بھی شدت سے دل میں ڈر بنا
تلملا اٹھیں سبھی سوئے ضمیر
ایسے کچھ حساس تر نشتر بنا
مشق کی ہے کتنے شیشے توڑ کر
تب سعادتؔ ایک شیشہ گر بنا