مرے گھر کی دیوار پر

Qaisar Abbas

مرے گھر کی دیوار پر

عہد رفتہ کے

رنگین افسانے سجے ہیں

مرے اجداد کی ہجرتیں

اپنی یادوں کے

خوابوں کے

ہم راہ کھڑی ہیں

مگر میں تو اس دور کا آئنہ ہوں

جہاں خواب بنتے ہیں کم

اور بکھرتے بہت ہیں

جہاں لوگ بس

عہد رفتہ میں

جینے کا گر جانتے ہیں

میں باسی ہوں اس گاؤں کا

جس کے راکھے

خود اپنے گوالوں کے

گھر لوٹتے ہیں

جہاں کھیتوں میں

عذابوں کی فصلیں کٹی ہیں

میں اب مڑ کے دیکھوں