ہوش تھا یا کوئی خمار رہا
Saa’in Aligہوش تھا یا کوئی خمار رہا
دل کہ بیتاب و بے قرار رہا
ان کے پہلو میں جا چھپا آخر
دل پہ ہم کو نہ اختیار رہا
لاکھ چاہا کہ منجمد ہوتا
حیف دل محو انتشار رہا
دل کو دھڑکا تھا اس رفاقت میں
زہے قسمت کہ یار یار رہا
ان کے پہلو میں جی پریشاں ہے
یہ قلق ہم کو بار بار رہا
چند لمحوں کا وصل تھا اور پھر
دیر تک ان کا انتظار رہا
ہجر میں اک سکوں تو ہے صائنؔ
وصل میں کب کسے قرار رہا