اچھا ہے کیا خیال بھی ان کے خیال کا
Saa’in Aligاچھا ہے کیا خیال بھی ان کے خیال کا
باعث وہی رہیں مرے جی کے وبال کا
جو ہیں اسیر حاکم و شہہ ان کی خیر ہو
میں تو اسیر ہو گیا زلفوں کے جال کا
اچھی نہیں یہ قربتیں مجھ سے مرے حضور
کہتے ہیں مجھ کو دیکھیے شاعر ملال کا
صائنؔ کا حال پوچھیں تو کہنا فقط یہی
صدقہ اتار لیجیے اپنے خیال کا