خوش رنگ ہے گل سے گل رخسار تمہارا

Radhe Shiyam Rastogi Ahqar

خوش رنگ ہے گل سے گل رخسار تمہارا

ریحاں سے سوا خط ہے نمودار تمہارا

مطلوب ہو تم دل ہے طلب گار تمہارا

یہ آئنہ ہے تشنۂ دیدار تمہارا

یوسف کو کبھی مفت بھی لیتی نہ زلیخاؔ

نظارہ جو کرتی سر بازار تمہارا

دامن کا بھی بوسہ نہ لیا فرط ادب سے

اب تک نہیں یہ بندہ گنہ گار تمہارا

گرمی سے جو خورشید قیامت کی جلیں گے

یاد آئے گا یہ سایۂ دیوار تمہارا

عشاق کے سجدوں کا بھلا ذکر ہی کیا ہے

ہندو و مسلماں ہے پرستار تمہارا

طوطی کی طرح کیوں نہ سخن سنج ہو احقرؔ

ہے سامنے آئینۂ رخسار تمہارا