ایک ایسے مکاں میں ٹھہرے ہیں
Rafat Shameemایک ایسے مکاں میں ٹھہرے ہیں
جس کے باہر انا کے پہرے ہیں
شام پنچھی کہاں گزاریں گے
شاخ گل پر جلے بسیرے ہیں
ہم تو ملبہ ہیں نا شناسی کا
ٹوٹے پھوٹے سے چند چہرے ہیں
آج بانٹی ہے دھوپ سورج نے
اپنے دامن میں کیوں اندھیرے ہیں
جال ٹوٹے ملے ہیں ساحل پر
کون جانے کہاں مچھیرے ہیں