Poetry
Poet
Meter
- انجام ہی کو اس کے نہ سمجھا نہ تو نہ میںورنہ یہ خواہشات بڑھاتا نہ تو نہ میںSaadat Aabidi
- تو ہے آب زندگی تو ہے شباب زندگیتجھ سے ہی سب کیف ہے تو ہے شراب زندگیSaadat Aabidi
- چلی جانا ہے ساری آب و تاب آہستہ آہستہکہ جیسے ختم ہوتی ہے کتاب آہستہ آہستہSaadat Aabidi
- زندگی کی کیفیت اب یہ ہے خاص و عام کیصبح کو ہوتی ہے جو حالت چراغ شام کیSaadat Aabidi
- سازش میں میرے قتل کی وہ مبتلا تو ہےمجھ کو خوشی یہ ہے وہ مجھے سوچتا تو ہےSaadat Aabidi
- فضا ایسی بہ فیض باغباں معلوم ہوتی ہےبہار گلستاں مثل خزاں معلوم ہوتی ہےSaadat Aabidi
- گھل جائے جس میں رنگ وہ پانی نہیں ہوں میںاپنی انا کا دشمن جانی نہیں ہوں میںSaadat Aabidi
- یکساں سبھی کا حال نہیں ہے تو کیوں نہیںتجھ کو جو یہ خیال نہیں ہے تو کیوں نہیںSaadat Aabidi
- یہ بھوکے لوگ جس دن گھر سے سڑکوں پر نکل آئےکرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئےSaadat Aabidi
- جب عزم کے شعلوں کو ہمت نے ہوا دی ہےطوفاں نے ہی ساحل کی تصویر دکھا دی ہےSabiha Sumbul
- حسین تاج کی صورت یہ بے صدا پتھردکھا رہے ہیں محبت کا معجزہ پتھرSabiha Sumbul
- دل میں ان کی یادوں کے جب دئے جلاتے ہیںدامن تخیل پر پھول مسکراتے ہیںSabiha Sumbul
- دل میں زخموں کی نئی فصل اگانے نکلےدرد کے پھول بیاباں میں کھلانے نکلےSabiha Sumbul
- کس کی یہ سیاست ہے کس کی ہیں یہ تدبیریںرہزنوں نے پائی ہیں رہبروں کی تقدیریںSabiha Sumbul
- کون ایسا ہے یہاں دل سے مجھے یاد کرےوقت تھوڑا سا مرے واسطے برباد کرےSabiha Sumbul
- گزرے ہیں ہم پہ ایسے بھی لمحے کبھی کبھیدل رو پڑا ہے سن کے لطیفے کبھی کبھیSabiha Sumbul
- مری زندگی کی کتاب کا ہے ہر اک ورق یوں سجا ہواکہیں آنسوؤں سے لکھا ہوا کہیں شوخیوں سے بھرا ہواSabiha Sumbul
- میں بکھر نہ جاؤں ورق ورق مجھے طاق دل میں سجائیےمرا حرف حرف ہے بے بہا مجھے اس طرح نہ مٹائیےSabiha Sumbul
- یہ مانا تم ہو زمانے کے با کمالوں میںتو ہم بھی خود کو سمجھتے ہیں بے مثالوں میںSabiha Sumbul
- چاند آج کی رات نہیں نکلاوہ اپنے لحافوں کے اندر چہرے کو چھپائے بیٹھا ہےتصدق حسین خالد
- اعجاز تصورتصدق حسین خالد
- گرج رہا ہے سیہ مست پیل پیکر ابراداس کوہ کی چوٹی پہ ایک تنہا پیڑتصدق حسین خالد
- تم چمن زاد ہو فطرت کے قریں رہتے ہودل یہ کہتا ہے کہ تم محرم اسرار بھی ہوتصدق حسین خالد
- شیر دل خاںمیں نے دیکھے تیس سالتصدق حسین خالد
- قرباں گاہ امنتصدق حسین خالد
- موج دریاتصدق حسین خالد
- روندتے جاؤ گزر گاہوں کوسر اٹھائے ہوئےتصدق حسین خالد
- پیام (تصدق حسین خالد)تصدق حسین خالد
- پشیمانیتصدق حسین خالد
- اس طرح مرجھا گئے کچھ پھول چہرے رات کودھوپ آنگن میں اتر آئی ہو جیسے رات کوYaqoob Parwaz
- دل کے لٹنے پہ کیا کرے کوئیکس سے جا کر پتہ کرے کوئیYaqoob Parwaz
- راہزن ہوں کہ رہنما ہوں میںکون جانے کہ اصل کیا ہوں میںYaqoob Parwaz
- سمجھے ہیں مثل کاہ مجھے مارتے ہیں لوگکتنے ہیں کم نگاہ مجھے مارتے ہیں لوگYaqoob Parwaz
- کس قدر خوش تھا کبھی یاروں کے بیچاب ترستا ہوں میں خرکاروں کے بیچYaqoob Parwaz
- کیوں تیرگی پہ تم کو گماں چاندنی کا ہےآخر یہ رنگ روپ کہاں چاندنی کا ہےYaqoob Parwaz
- میں ترا ہی آئنہ ہوں اور بستجھ کو دیکھا چاہتا ہوں اور بسYaqoob Parwaz
- ویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگگنتی ہوئی تو رہ گئے بس چیدہ چیدہ لوگYaqoob Parwaz
- ہوا کی چال چل جائے گا تو بھیخبر کیا تھی بدل جائے گا تو بھیYaqoob Parwaz
- یہ نظارہ نہ دیکھا تھا فراز بام سے پہلےنکلتا ہے کوئی سورج غروب شام سے پہلےYaqoob Parwaz
- آساں نہیں ہے سیل جوانی کو روکناممکن کہاں ڈھلان پہ پانی کو روکناYaqoob Saqi
- برا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتےخطا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتےYaqoob Saqi
- دنیا سب آرام کرے ہےقسمت اپنا کام کرے ہےYaqoob Saqi
- فضا میں شور تلاطم ہو رنگ و بو بھی ہوزمین شہر ستم گر لہو لہو بھی ہوYaqoob Saqi
- کسی سے بھیک میں زاد سفر نہیں لیتامیں چیخ چیخ کے داد ہنر نہیں لیتاYaqoob Saqi
- کوئی موسم ہو نظر سود و زیاں جانتی ہےبات جو دل میں ہے بیٹی کے وہ ماں جانتی ہےYaqoob Saqi
- ملا ہے وہ مجھے دل کی بدولتیہ آسانی ہے مشکل کی بدولتYaqoob Saqi
- منہ چھپائے ہوئے بھٹکے گی ہوا میرے بعدساز ہو جائے گی صحرا کی صدا میرے بعدYaqoob Saqi
- میری فکریں ہری بھری کرنااس دسمبر کو جنوری کرناYaqoob Saqi
- یا رب کبھی قبول مری یہ دعا بھی ہوتو نے بدن دیا ہے بدن پر قبا بھی ہوYaqoob Saqi
- انداز زمانے کا ویسا ہی رہا پھر بھیسو بار سنایا اور سو بار کہا صاحبZafar Mehdi