تری جفاؤں کا لب لباب لکھا ہے
Parvez Anjumتری جفاؤں کا لب لباب لکھا ہے
جو میرے چہرے پہ دل نے حساب لکھا ہے
نہ سانس لینے کی طاقت نہ آنے جانے کی
مرے نصیب میں کیسا عذاب لکھا ہے
ستم کئے تھے جو تم نے وہ یاد ہیں ہم کو
ہمارے پاس تو سب کا حساب لکھا ہے
الٹ کے دیکھو ستم کا جواب کس سے ملا
مری کتاب میں اس کا جواب لکھا ہے
ہمارے لکھنے پہ کیوں اعتراض ہے تم کو
جہاں بھی لکھا ہے تم کو گلاب لکھا ہے
کسی سوال کا ہم نے جواب لکھا ہے