شب فراق میں بھی وصل سا سرور رہا

Saa’in Alig

شب فراق میں بھی وصل سا سرور رہا

رہا نہ پاس مرے وہ نہ مجھ سے دور رہا

کریں گے عشق اڑائیں گے خاک صحرا میں

کہ کم سنی سے ہمیں اک یہی فتور رہا

کلیم حسرتیں کرتے ہی رہ گئے آخر

مگر نصیب تو دیکھو کہ نذر طور رہا

سرائے دل میں نہیں اک ذرا بھی تنہائی

کوئی نہ کوئی یہاں دم بہ دم ضرور رہا

عجیب حال ہے صائنؔ کہیں تو کس سے کہیں

کہ پستیوں پہ ہمیں کس قدر غرور رہا