اب جو اٹھیں گے تو کاندھوں پہ اٹھانا ہوگا
Rafat Shameemاب جو اٹھیں گے تو کاندھوں پہ اٹھانا ہوگا
بستر خاک پہ پھر ہم کو سلانا ہوگا
ہم سے اجڑے ہوئے لوگوں سے بھی مل کر دیکھو
درمیاں کوئی تو اک ربط پرانا ہوگا
آخری دھوپ ہیں آنکھوں میں بسا لو ورنہ
پھر کہاں خواب کسی شب کا سہانا ہوگا
جب ہو اثبات ہی خود اپنی نفی کا باعث
دل کو ہر قید تمنا سے چھڑانا ہوگا
تیری دنیا کی اذیت تو اٹھا لی یا رب
بوجھ عقبیٰ کا بھی کیا یوں ہی اٹھانا ہوگا