بد بختی میں سب بے مول

Parvez Anjum

بد بختی میں سب بے مول

ہیرے چن یا موتی رول

خوابوں کی تعبیریں ڈھونڈ

سورج نکلا آنکھیں کھول

صحرا صحرا پھول کھلا

دریا دریا زہر نہ گھول

تلخ نوائی ٹھیک نہیں

بول ہمیشہ میٹھے بول

کون یہاں تجھ سا خوددار

تو درویش بے کشکول

جو کرنا ہے جلدی کر

کرتا کیوں ہے ٹال مٹول

چپ چپ شادی شادی کیا

شہنائی تاشے نہ ڈھول

تو استادوں کا استاد

تیرے شعر میں کیوں ہے جھول

آنکھیں نرگس ہونٹ کنول

بات تمہاری ہے انمول

غیبت کرنا ٹھیک نہیں

ہمت ہے تو منہ پر بول

پردہ داری نیکی ہے

بھائی انجمؔ بھید نہ کھول