Poetry
Poet
Meter
- گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جاناتم کسی چشم خریدار میں مت آ جاناAitbar Sajid
- مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مرے جذبات سے تھااس کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھاAitbar Sajid
- مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھامرے موسموں کے مزاج داں تجھے میرا کتنا خیال تھاAitbar Sajid
- مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گااکیلے پن کا یہ احساس مجھ کو مار ڈالے گاAitbar Sajid
- محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مریسب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مریAitbar Sajid
- مرا ہے کون دشمن میری چاہت کون رکھتا ہےاسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہےAitbar Sajid
- مری روح میں جو اتر سکیں وہ محبتیں مجھے چاہئیںجو سراب ہوں نہ عذاب ہوں وہ رفاقتیں مجھے چاہئیںAitbar Sajid
- میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوںجنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوںAitbar Sajid
- نہ گمان موت کا ہے نہ خیال زندگی کاسو یہ حال ان دنوں ہے مرے دل کی بے کسی کاAitbar Sajid
- وہ پہلی جیسی وحشتیں وہ حال ہی نہیں رہاکہ اب تو شوق راحت وصال ہی نہیں رہاAitbar Sajid
- وہی ہیں اپنی راتوں کی کتھائیںفراق یار خواب آور دوائیںAitbar Sajid
- یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہماب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہمAitbar Sajid
- یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیںمگر ہماری ذرا عادتیں بھی ٹھیک نہیںAitbar Sajid
- یہ حسیں لوگ ہیں تو ان کی مروت پہ نہ جاخود ہی اٹھ بیٹھ کسی اذن و اجازت پہ نہ جاAitbar Sajid
- یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیںبہت اچھا بھلا چھوڑا تھا اب بیمار کیسےAitbar Sajid
- اولیں شہر کی تسخیر میں پہلو تھے بہترنج کے خوف کے حیرت کے شکیبائی کےAitbar Sajid
- کیسے چلتے سمے وہ روئیگلے سے لگ کر بلک بلک کرAitbar Sajid
- ان دوریوں نے اور بڑھا دی ہیں قربتیںسب فاصلے وبا کی طوالت سے مٹ گئےAitbar Sajid
- ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیںدیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارہ کر کےAitbar Sajid
- کسی کو سال نو کی کیا مبارک باد دی جائےکلینڈر کے بدلنے سے مقدر کب بدلتا ہےAitbar Sajid
- آنا تھا جسے آج وہ آیا تو نہیں ہےیہ وقت بدلنے کا اشارا تو نہیں ہےFaheem Jogapuri
- آنکھوں سے کسی خواب کا رشتہ ہی نہیں تھااس آئنے میں عکس ٹھہرتا ہی نہیں تھاFaheem Jogapuri
- اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہممقتل کی سمت جیسے سفر کر رہے ہیں ہمFaheem Jogapuri
- اداس ہو گئی شبنم جہاں سحر آئیغم فراق سے پھولوں کی آنکھ بھر آئیFaheem Jogapuri
- اگر ہو ظرف سے خالی تو کیا رکھا ہے دریا میںسمندر کو بھی میں نے ڈوبتے دیکھا ہے قطرہ میںFaheem Jogapuri
- بیچ کر تہذیب دولت کے پجاری ہو گئےاس زمانے کے سخنور بھی مداری ہو گئےFaheem Jogapuri
- بے رنگ و نور چاند ہے یوں آسمان میںبھوکا فقیر جیسے خدا کے دھیان میںFaheem Jogapuri
- پریشانی کہاں کی اور سکوں کیایہی ہے زندگی تو سر دھنوں کیاFaheem Jogapuri
- پڑھی گئی نہ وہ تحریر غم جبینوں سےجو پونچھتی رہی اشکوں کو آستینوں سےFaheem Jogapuri
- جب بھی ہنستے ہوئے انکار کیا ہے اس نےدل پہ اک اور نیا وار کیا ہے اس نےFaheem Jogapuri
- جس نے چھپا کے بھوک کو پتھر میں رکھ لیادنیا کو اس فقیر نے ٹھوکر میں رکھ لیاFaheem Jogapuri
- خفیف لب پہ تبسم رکا رکا سا لگےکہ کوئی غنچۂ نو رس کھلا کھلا سا لگےFaheem Jogapuri
- خود پی سکی نہ جب تو زمیں کو پلا گئیاک دودھ کے گلاس کو بلی گرا گئیFaheem Jogapuri
- خیال و فکر کا صدقہ اتارتے رہئےلہو پلا کے غزل کو سنوارتے رہئےFaheem Jogapuri
- دعائیں مانگ رہے ہیں کئی خیال ابھیخدا کے گھر سے فرشتوں کو مت نکال ابھیFaheem Jogapuri
- دل کی بستی میں برستا ہے وہ بادل کون ہےکر رہا ہے جو مری آنکھوں کو جل تھل کون ہےFaheem Jogapuri
- دوستی میں نہ دشمنی میں ہمکیا نظر آئیں گے کسی میں ہمFaheem Jogapuri
- دیر کے ساتھ حرم آئے شوالے آئےآج چھن چھن کے اندھیروں سے اجالے آئےFaheem Jogapuri
- دیکھتی ہے نگاہ پانی میںتخت عالم پناہ پانی میںFaheem Jogapuri
- ذہن جب تیرے تصور میں رواں ہوتا ہےتو بھی بولے تو سماعت پہ گراں ہوتا ہےFaheem Jogapuri
- رات کا اب کوئی جادو نہیں چلنے والااک ستارا ہے اسے دن میں بدلنے والاFaheem Jogapuri
- سمجھتے ہو جنہیں بے کار کے ہیںوہ پتھر بھی اسی دیوار کے ہیںFaheem Jogapuri
- شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہےلوٹ آئے ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہےFaheem Jogapuri
- غم بھی صدیوں سے ہیں اور دیدۂ تر صدیوں سےخانہ بربادوں کے آباد ہیں گھر صدیوں سےFaheem Jogapuri
- فلک پہ ہنسنے لگے چاند تارے شام کے بعدہمیں اداس ہیں دریا کنارے شام کے بعدFaheem Jogapuri
- قبول ہو گئی اس کی دعا تو کیا ہوگااگر وہ بن گیا اک دن خدا تو کیا ہوگاFaheem Jogapuri
- کچھ کوہکن جو وقف زر و مال ہو گئےتیشہ بدست ہو کے بھی کنگال ہو گئےFaheem Jogapuri
- کون سا دل ہے جو شکار نہیںاے ستم گر ترا شمار نہیںFaheem Jogapuri
- کیا کرو گے بچاؤ سورج کاجانتے ہو سبھاؤ سورج کاFaheem Jogapuri
- کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیرپھر کسی سے کیوں ملے کوئی ضرورت کے بغیرFaheem Jogapuri