اداس ہو گئی شبنم جہاں سحر آئی

Faheem Jogapuri

اداس ہو گئی شبنم جہاں سحر آئی

غم فراق سے پھولوں کی آنکھ بھر آئی

سحر کے ساتھ شب غم گئی مگر آئی

ہوئی جو شام تو گھر اپنے لوٹ کر آئی

مسافران محبت کو کچھ خبر ہی نہیں

کہ شام کب گئی آئی تو کب سحر آئی

ادھار مانگ کے یوں لائی زندگی خوشیاں

کہ جیسے شاہد بازار مانگ بھر آئی

تمہارا غم بھی وہاں غم نہیں رہا اے دوست

اداس جب کوئی صورت ہمیں نظر آئی

نہ آفتاب کو تھا چین جستجو میں تری

نہ نیند چاند ستاروں کو رات بھر آئی

ترے بغیر بھی گزری ہے زندگی لیکن

خوشی کی شام نہ تو صبح معتبر آئی

رہے اداس تو ہم مدتوں اداس رہے

ہنسی جو آئی تو پھر بات بات پر آئی

پتا نہ چل سکا تاریک راستوں کا فہیمؔ

بچھڑنے والوں کی اب تک نہ کچھ خبر آئی