دعائیں مانگ رہے ہیں کئی خیال ابھی

Faheem Jogapuri

دعائیں مانگ رہے ہیں کئی خیال ابھی

خدا کے گھر سے فرشتوں کو مت نکال ابھی

دبا لے درد ابھی آنسوؤں کو پال ابھی

ترا یہ آخری سکہ ہے مت اچھال ابھی

ہوا سے کہنا ذرا اور انتظار کرے

کرے گی رات چراغوں کی دیکھ بھال ابھی

گئے دنوں کی امانت اسی کی نوک پہ ہے

ہمارے سینے سے خنجر یہ مت نکال ابھی

خدا کا شکر پرندے سفر سے لوٹ آئے

شکاریوں کے اگرچہ بچھے ہیں جال ابھی

وفا کے کھیل میں نو وارد بساط ہوں میں

سمجھ میں آتی نہیں دشمنوں کی چال ابھی

دھیان آپ کے احسان کا بھی ہے لیکن

کسی کے قرض میں ڈوبا ہوں بال بال ابھی

بھنور سے بچ کے چلی آئی ایک ناؤ فہیمؔ

نہ پوچھ کتنا سمندر کو ہے ملال ابھی