سمجھتے ہو جنہیں بے کار کے ہیں
Faheem Jogapuriسمجھتے ہو جنہیں بے کار کے ہیں
وہ پتھر بھی اسی دیوار کے ہیں
کھنڈر کے روپ میں بکھرے نمونے
مری ٹوٹی ہوئی تلوار کے ہیں
وہ کیا جانیں کسی کے دل کی قیمت
جو سوداگر لب و رخسار کے ہیں
اڑانیں بھرنے والے یہ پرندے
نمائندہ تری رفتار کے ہیں
دہن گیسو زباں آنکھیں اشارے
سبھی رستے لب اظہار کے ہیں
ستارے چاند جگنو پھول شبنم
یہ سب چہرے مرے دل دار کے ہیں
مسافت دھوپ بارش راہ منزل
کئی ساماں سفر آثار کے ہیں
فہیمؔ آیا کھلی سانسوں کا موسم
جہاں پہرے در و دیوار کے ہیں