بیچ کر تہذیب دولت کے پجاری ہو گئے

Faheem Jogapuri

بیچ کر تہذیب دولت کے پجاری ہو گئے

اس زمانے کے سخنور بھی مداری ہو گئے

رکھ کے وہ میزان پر دیوان اپنا رو پڑے

جب کسی کے بے سرے الفاظ بھاری ہو گئے

ہم نے اک مندر میں دیکھی آج ایسی مورتی

آدمی تو آدمی پتھر پجاری ہو گئے

انقلاب آیا تو ہے لیکن یہ کیسا انقلاب

چینٹیوں کو مارنے والے شکاری ہو گئے

عشق کے بازار سے لوٹے ہیں دل کو ہار کر

دین و ایماں تم سنبھالو ہم جواری ہو گئے

کون سمجھائے سمندر کے تھپیڑوں کو فہیمؔ

کیسے کیسے وقت کے آگے بھکاری ہو گئے