کیا کرو گے بچاؤ سورج کا

Faheem Jogapuri

کیا کرو گے بچاؤ سورج کا

جانتے ہو سبھاؤ سورج کا

گرم ہے وہ تو کم نہیں ہم بھی

کون سہتا ہے تاؤ سورج کا

میرے گھر کا چراغ بجھتے ہی

چڑھ گیا کتنا بھاؤ سورج کا

سرمئی شام آئے کمرے میں

اب تو پردہ ہٹاؤ سورج کا

رات سے جنگ کر کے آیا ہے

تازہ تازہ ہے گھاؤ سورج کا

ملنے جاتا ہے رات سے چھپ کر

اک فسانہ بناؤ سورج کا

آسمانوں سے دوستی کر کے

بڑھ گیا ہے تناؤ سورج کا

ہو گئی شام سوچتے کیا ہو

اب جنازہ اٹھاؤ سورج کا

رات بھر منہ چھپائے پھرتا رہا

کم نہیں پھر بھی تاؤ سورج کا

روز دریا کنارے بیٹھ کے ہم

جوڑتے ہیں گھٹاؤ سورج کا

جگنوؤں سے مقابلہ تھا فہیمؔ

کون کرتا بچاؤ سورج کا