غم بھی صدیوں سے ہیں اور دیدۂ تر صدیوں سے

Faheem Jogapuri

غم بھی صدیوں سے ہیں اور دیدۂ تر صدیوں سے

خانہ بربادوں کے آباد ہیں گھر صدیوں سے

در بدر ان کا بھٹکنا تو نئی بات نہیں

چاہنے والے تو ہیں خاک بسر صدیوں سے

کوئی مشکل نہ مسافت ہے نہ رستے کی تھکن

اصل زنجیر ہے سامان سفر صدیوں سے

تجھ سے ملنے کے سوا ساری دعائیں گلشن

اک یہی شاخ ہے بے برگ و ثمر صدیوں سے

کیا مسافر ہیں یہ رستے میں بھٹکنے والے

جیسے بے سمت گھٹاؤں کا سفر صدیوں سے

کس نے دیکھی ہے زمانے میں وفا کی خوشبو

یہ کہانی ہے کتابوں میں مگر صدیوں سے

ہر زمانے میں خوشامد نے صدارت کی ہے

کامراں ہوتا رہا ہے یہ ہنر صدیوں سے

ماسوا حسن کہیں عشق نے دیکھا نہ فہیمؔ

ایک ہی سمت کو جامد ہے نظر صدیوں سے