پریشانی کہاں کی اور سکوں کیا

Faheem Jogapuri

پریشانی کہاں کی اور سکوں کیا

یہی ہے زندگی تو سر دھنوں کیا

کوئی سنتا نہیں شیشوں کے گھر میں

تمہارے شہر میں پتھر چنوں کیا

جنہیں گننے میں ٹوٹی سانس ڈوری

انہیں سانسوں کا جرمانہ بھروں کیا

کسی ظالم کے آگے سر جھکاؤں

بزرگوں کی روایت توڑ دوں کیا

مرے دست طلب کو روکتی ہے

بتا اے مفلسی آخر کروں کیا

خدا سے اس لیے مانگا نہیں کچھ

وہ سب کچھ جانتا ہے میں کہوں کیا

کروں کیا پیروی اہل ہوس کی

تری جانب قدم گن کر رکھوں کیا