بے رنگ و نور چاند ہے یوں آسمان میں

Faheem Jogapuri

بے رنگ و نور چاند ہے یوں آسمان میں

بھوکا فقیر جیسے خدا کے دھیان میں

چھاؤں کا لے رہا ہے مزہ دھوپ میں کوئی

کوئی سلگ رہا ہے کہیں سائبان میں

کس چیز کو خریدنے نکلے ہو جان من

کیا شے تلاش کرتے ہو خالی دکان میں

وہ متحد ہیں درس مساوات کے بغیر

ہم درس لے کے بٹ گئے انصار و خان میں

فرصت نہیں کہ فکر مرمت کرے کوئی

مدت سے اک درار پڑی ہے مکان میں

پکی حویلیوں میں ٹھہر کر لگا فہیمؔ

رشتوں کا احترام ہے کچے مکان میں