Poetry
Poet
Meter
- گزرے تمام عمر عجب امتحاں سے ہمالجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہمFaheem Jogapuri
- گھر بناتے وقت اس کا دھیان ہونا چاہئےدھوپ رکھنے کے لئے دالان ہونا چاہئےFaheem Jogapuri
- مل نہ پائے کہیں تو حیرت کیاتم سمندر ہوئے نہ ہم دریاFaheem Jogapuri
- منزل نہیں سفر میں جنون سفر ملےنا معتبر خوشی ہے غم معتبر ملےFaheem Jogapuri
- نہ پوچھ کیسے گنوائی ہیں انگلیاں ہم نےاک آئنے کی بٹوری ہیں کرچیاں ہم نےFaheem Jogapuri
- وہی شام کے دلاسے وہی صبح کے بہانےشب تار سے فراغت ملے کب خدا ہی جانےFaheem Jogapuri
- ہزاروں پردے میں پردہ نہیں ہےوہ جلوہ ہو کے بھی جلوہ نہیں ہےFaheem Jogapuri
- ہیں مدتوں سے دیکھنے والوں کے منتظراحساس بے پناہ کی جاگیر اور ہمFaheem Jogapuri
- یاد کر کر کے تری یاد مٹانے نکلےلے کے گھی ہاتھ میں ہم آگ بجھانے نکلےFaheem Jogapuri
- یہ فقیری ہے قناعت کے سوا کیا جانےکون کیا دے کے گیا دست دعا کیا جانےFaheem Jogapuri
- بند کمرے میں ترا درد نہ بجھ جائے کہیںکھڑکیاں کھول کہ یہ آگ ہوا چاہتی ہےFaheem Jogapuri
- تمہاری یاد سے یہ رات کتنی روشن ہےنظر میں اتنے ہیں جگنو کہ ہم گنائیں کیاFaheem Jogapuri
- کتنے طوفانوں سے ہم الجھے تجھے معلوم کیاپیڑ کے دکھ درد کا پھولوں سے اندازہ نہ کرFaheem Jogapuri
- کسی کے در پہ سجدہ کرتے کرتےفہیمؔ ایسا نہ ہو سر ٹوٹ جائےFaheem Jogapuri
- مرگھٹ پتھ پر دیکھ کے ہم کو جانے کیا کیا سوچیں وہآنکھوں سے کیا پنیہ کمائے ہونٹوں سے کیا دان ہوئےFaheem Jogapuri
- ملن کے بعد آتی ہے جدائینرک بھی سورگ سے کتنا نکٹ ہےFaheem Jogapuri
- نہ بات دل کی سنوں میں نہ دل سنے میرییہ سرد جنگ ہے اپنے ہی اک مشیر کے ساتھFaheem Jogapuri
- واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سےوہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سےFaheem Jogapuri
- ہم اہل غم کو حقارت سے دیکھنے والوتمہاری ناؤ انہیں آنسوؤں سے چلتی ہےFaheem Jogapuri
- اپنا اپنا رنگ دکھلاتی ہیں جانی چوڑیاںآسمانی ارغوانی زعفرانی چوڑیاںسید یوسف علی خاں ناظم
- اس توقع پہ کہ دیکھوں کبھی آتے جاتےگھس گئے پاؤں رہ دوست میں جاتے جاتےسید یوسف علی خاں ناظم
- بر سر لطف آج چشم دل ربا تھی میں نہ تھاڈھونڈھتی مجھ کو نگاہ آشنا تھی میں نہ تھاسید یوسف علی خاں ناظم
- بے دیے لے اڑا کبوتر خطیوں پہنچتا ہے اوپر اوپر خطسید یوسف علی خاں ناظم
- تھی آسماں پہ میری چڑھائی تمام راتپھینکا کیا ہوں تیر ہوائی تمام راتسید یوسف علی خاں ناظم
- تیرے در سے میں اٹھا لیکن نہ میرا دل اٹھاچھوڑ کر ہو جس طرح کاسہ کوئی سائل اٹھاسید یوسف علی خاں ناظم
- جاں فشانی کا واں حساب عبثجو کہو اس کا ہے جواب عبثسید یوسف علی خاں ناظم
- جب کہو کیوں ہو خفا کیا باعثکہتے ہیں پوچھنے کا کیا باعثسید یوسف علی خاں ناظم
- دل میں اتری ہے نگہ رہ گئیں باہر پلکیںکیا خدنگ نگہ یار کی ہیں پر پلکیںسید یوسف علی خاں ناظم
- عاشق حق ہیں ہمیں شکوۂ تقدیر نہیںپیچ قسمت کا کم از زلف گرہ گیر نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کییہ عمر بھر میں ایک ہوئی ہے ثواب کیسید یوسف علی خاں ناظم
- کبھی خوں ہوتی ہوئے اور کبھی جلتے دیکھادل کو ہر بار نیا رنگ بدلتے دیکھاسید یوسف علی خاں ناظم
- کلام سخت کہہ کہہ کر وہ کیا ہم پر برستے ہیںلب ان کے لعل ہیں پر لعل سے پتھر برستے ہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- کہاں ہے تو کہاں ہے اور میں ہوںانا الحق کا بیاں ہے اور میں ہوںسید یوسف علی خاں ناظم
- لے کے اپنی زلف کو وہ پیارے پیارے ہاتھ میںکہتے ہیں فتنوں کی چوٹی ہے ہمارے ہاتھ میںسید یوسف علی خاں ناظم
- محتاج نہیں قافلہ آواز درا کاسیدھی ہے رہ بت کدہ احسان خدا کاسید یوسف علی خاں ناظم
- مل جائیں ازدحام میں ہم ہی یہ ہم سے دوراک گھر جدا بنائیں گے دیر و حرم سے دورسید یوسف علی خاں ناظم
- میں نے کہا کہ دعویٔ الفت مگر غلطکہنے لگے کہ ہاں غلط اور کس قدر غلطسید یوسف علی خاں ناظم
- وہ جب آپ سے اپنا پردا کریںتو بند قبا کس طرح وا کریںسید یوسف علی خاں ناظم
- وہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میںوہی یوسف ہے زنداں میں وہی لیلیٰ ہے محمل میںسید یوسف علی خاں ناظم
- ہم ان کی نظر میں سمانے لگےمگر جب نظر بھی نہ آنے لگےسید یوسف علی خاں ناظم
- ہم کو ہوس جلوہ گاہ طور نہیں ہےاس حسن کی کیا قدر جو مستور نہیں ہےسید یوسف علی خاں ناظم
- ہم نے سو سو طرح بنائی باتسامنے اس کے بن نہ آئی باتسید یوسف علی خاں ناظم
- ہے آئینہ خانے میں ترا ذوق فزا رقصکرتے ہیں بہت سے ترے ہم شکل جدا رقصسید یوسف علی خاں ناظم
- اخلاص کی دھوکے پر ہوں مائل تیراسچ تو یہ ہے کہ جانتا ہے مشکل تیراسید یوسف علی خاں ناظم
- انداز و ادا سے کچھ اگر پہچانوںالبتہ اسے خدا قائل جانوںسید یوسف علی خاں ناظم
- اے نوش لب و ماہ رخ و زہرہ جبیںآئنہ ہی ترے رخ پہ حیران نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زوربن جائے نہ کیوں عقدۂ خاطر ہر پورسید یوسف علی خاں ناظم
- جاناں کو سر مہر و وفا ہے جھوٹ سبکچھ اس نے کہا ہے یا لکھا ہے جھوٹ سبسید یوسف علی خاں ناظم
- سجادہ ہے میرا فلک نیلی فامتسبیح کواکب آفتاب اس کا امامسید یوسف علی خاں ناظم
- صورت وہ بھلی کہ ہو مگر ماہ تمامسیرت وہ بری کہ ہو مگر والیٔ شامسید یوسف علی خاں ناظم