Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. گزرے تمام عمر عجب امتحاں سے ہمالجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہمFaheem Jogapuri
  2. گھر بناتے وقت اس کا دھیان ہونا چاہئےدھوپ رکھنے کے لئے دالان ہونا چاہئےFaheem Jogapuri
  3. مل نہ پائے کہیں تو حیرت کیاتم سمندر ہوئے نہ ہم دریاFaheem Jogapuri
  4. منزل نہیں سفر میں جنون سفر ملےنا معتبر خوشی ہے غم معتبر ملےFaheem Jogapuri
  5. نہ پوچھ کیسے گنوائی ہیں انگلیاں ہم نےاک آئنے کی بٹوری ہیں کرچیاں ہم نےFaheem Jogapuri
  6. وہی شام کے دلاسے وہی صبح کے بہانےشب تار سے فراغت ملے کب خدا ہی جانےFaheem Jogapuri
  7. ہزاروں پردے میں پردہ نہیں ہےوہ جلوہ ہو کے بھی جلوہ نہیں ہےFaheem Jogapuri
  8. ہیں مدتوں سے دیکھنے والوں کے منتظراحساس بے پناہ کی جاگیر اور ہمFaheem Jogapuri
  9. یاد کر کر کے تری یاد مٹانے نکلےلے کے گھی ہاتھ میں ہم آگ بجھانے نکلےFaheem Jogapuri
  10. یہ فقیری ہے قناعت کے سوا کیا جانےکون کیا دے کے گیا دست دعا کیا جانےFaheem Jogapuri
  11. بند کمرے میں ترا درد نہ بجھ جائے کہیںکھڑکیاں کھول کہ یہ آگ ہوا چاہتی ہےFaheem Jogapuri
  12. تمہاری یاد سے یہ رات کتنی روشن ہےنظر میں اتنے ہیں جگنو کہ ہم گنائیں کیاFaheem Jogapuri
  13. کتنے طوفانوں سے ہم الجھے تجھے معلوم کیاپیڑ کے دکھ درد کا پھولوں سے اندازہ نہ کرFaheem Jogapuri
  14. کسی کے در پہ سجدہ کرتے کرتےفہیمؔ ایسا نہ ہو سر ٹوٹ جائےFaheem Jogapuri
  15. مرگھٹ پتھ پر دیکھ کے ہم کو جانے کیا کیا سوچیں وہآنکھوں سے کیا پنیہ کمائے ہونٹوں سے کیا دان ہوئےFaheem Jogapuri
  16. ملن کے بعد آتی ہے جدائینرک بھی سورگ سے کتنا نکٹ ہےFaheem Jogapuri
  17. نہ بات دل کی سنوں میں نہ دل سنے میرییہ سرد جنگ ہے اپنے ہی اک مشیر کے ساتھFaheem Jogapuri
  18. واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سےوہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سےFaheem Jogapuri
  19. ہم اہل غم کو حقارت سے دیکھنے والوتمہاری ناؤ انہیں آنسوؤں سے چلتی ہےFaheem Jogapuri
  20. اپنا اپنا رنگ دکھلاتی ہیں جانی چوڑیاںآسمانی ارغوانی زعفرانی چوڑیاںسید یوسف علی خاں ناظم
  21. اس توقع پہ کہ دیکھوں کبھی آتے جاتےگھس گئے پاؤں رہ‌ دوست میں جاتے جاتےسید یوسف علی خاں ناظم
  22. بر سر لطف آج چشم دل ربا تھی میں نہ تھاڈھونڈھتی مجھ کو نگاہ آشنا تھی میں نہ تھاسید یوسف علی خاں ناظم
  23. بے دیے لے اڑا کبوتر خطیوں پہنچتا ہے اوپر اوپر خطسید یوسف علی خاں ناظم
  24. تھی آسماں پہ میری چڑھائی تمام راتپھینکا کیا ہوں تیر ہوائی تمام راتسید یوسف علی خاں ناظم
  25. تیرے در سے میں اٹھا لیکن نہ میرا دل اٹھاچھوڑ کر ہو جس طرح کاسہ کوئی سائل اٹھاسید یوسف علی خاں ناظم
  26. جاں فشانی کا واں حساب عبثجو کہو اس کا ہے جواب عبثسید یوسف علی خاں ناظم
  27. جب کہو کیوں ہو خفا کیا باعثکہتے ہیں پوچھنے کا کیا باعثسید یوسف علی خاں ناظم
  28. دل میں اتری ہے نگہ رہ گئیں باہر پلکیںکیا خدنگ نگہ یار کی ہیں پر پلکیںسید یوسف علی خاں ناظم
  29. عاشق‌ حق ہیں ہمیں شکوۂ تقدیر نہیںپیچ‌ قسمت کا کم از زلف گرہ گیر نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  30. قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کییہ عمر بھر میں ایک ہوئی ہے ثواب کیسید یوسف علی خاں ناظم
  31. کبھی خوں ہوتی ہوئے اور کبھی جلتے دیکھادل کو ہر بار نیا رنگ بدلتے دیکھاسید یوسف علی خاں ناظم
  32. کلام سخت کہہ کہہ کر وہ کیا ہم پر برستے ہیںلب ان کے لعل ہیں پر لعل سے پتھر برستے ہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  33. کہاں ہے تو کہاں ہے اور میں ہوںانا الحق کا بیاں ہے اور میں ہوںسید یوسف علی خاں ناظم
  34. لے کے اپنی زلف کو وہ پیارے پیارے ہاتھ میںکہتے ہیں فتنوں کی چوٹی ہے ہمارے ہاتھ میںسید یوسف علی خاں ناظم
  35. محتاج نہیں قافلہ آواز درا کاسیدھی ہے رہ بت کدہ احسان خدا کاسید یوسف علی خاں ناظم
  36. مل جائیں ازدحام میں ہم ہی یہ ہم سے دوراک گھر جدا بنائیں گے دیر و حرم سے دورسید یوسف علی خاں ناظم
  37. میں نے کہا کہ دعوی‌ٔ الفت مگر غلطکہنے لگے کہ ہاں غلط اور کس قدر غلطسید یوسف علی خاں ناظم
  38. وہ جب آپ سے اپنا پردا کریںتو بند قبا کس طرح وا کریںسید یوسف علی خاں ناظم
  39. وہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میںوہی یوسف ہے زنداں میں وہی لیلیٰ ہے محمل میںسید یوسف علی خاں ناظم
  40. ہم ان کی نظر میں سمانے لگےمگر جب نظر بھی نہ آنے لگےسید یوسف علی خاں ناظم
  41. ہم کو ہوس جلوہ گاہ طور نہیں ہےاس حسن کی کیا قدر جو مستور نہیں ہےسید یوسف علی خاں ناظم
  42. ہم نے سو سو طرح بنائی باتسامنے اس کے بن نہ آئی باتسید یوسف علی خاں ناظم
  43. ہے آئینہ خانے میں ترا ذوق فزا رقصکرتے ہیں بہت سے ترے ہم شکل جدا رقصسید یوسف علی خاں ناظم
  44. اخلاص کی دھوکے پر ہوں مائل تیراسچ تو یہ ہے کہ جانتا ہے مشکل تیراسید یوسف علی خاں ناظم
  45. انداز و ادا سے کچھ اگر پہچانوںالبتہ اسے خدا قائل جانوںسید یوسف علی خاں ناظم
  46. اے نوش لب و ماہ رخ و زہرہ جبیںآئنہ ہی ترے رخ پہ حیران نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  47. باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زوربن جائے نہ کیوں عقدۂ خاطر ہر پورسید یوسف علی خاں ناظم
  48. جاناں کو سر مہر و وفا ہے جھوٹ سبکچھ اس نے کہا ہے یا لکھا ہے جھوٹ سبسید یوسف علی خاں ناظم
  49. سجادہ ہے میرا فلک نیلی فامتسبیح کواکب آفتاب اس کا امامسید یوسف علی خاں ناظم
  50. صورت وہ بھلی کہ ہو مگر ماہ تمامسیرت وہ بری کہ ہو مگر والیٔ شامسید یوسف علی خاں ناظم