اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہم
Faheem Jogapuriاپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہم
مقتل کی سمت جیسے سفر کر رہے ہیں ہم
کیا چاند اور تاروں کو ہم جانتے نہیں
اے آسمان والو زمیں پر رہے ہیں ہم
مشکل تھا سطح آب سے ہم کو کھنگالنا
باہر نہیں تھے جتنا کہ اندر رہے ہیں ہم
کل اور کوئی وقت کی آنکھوں میں ہو تو کیا
اب تک تو ہر نگاہ کا محور رہے ہیں ہم
دیر و حرم سے اور بھی آگے نکل گئے
ہاں عقل کی حدود سے باہر رہے ہیں ہم
اے ہم سفر نہ پوچھ مسافت نصیب سے
تو جانتا ہے کتنے دنوں گھر رہے ہیں ہم
باہر نہ آئے ہم بھی انا کے حصار سے
اس جنگ میں تمہارے برابر رہے ہیں ہم
جھرنوں کی کیا بساط کریں گفتگو فہیمؔ
دریا گرے جہاں وہ سمندر رہے ہیں ہم