فلک پہ ہنسنے لگے چاند تارے شام کے بعد

Faheem Jogapuri

فلک پہ ہنسنے لگے چاند تارے شام کے بعد

ہمیں اداس ہیں دریا کنارے شام کے بعد

کھنکتی چوڑیاں خوشبوئیں پیار کی باتیں

تمام وصل کے ہیں استعارے شام کے بعد

ہمارے دن پہ زمانے کا جو تصرف ہو

ہماری رات ہے اور ہم تمہارے شام کے بعد

نکلیے گھر سے تو دامن میں آ ہی جاتے ہیں

دو ایک بھٹکے ہوئے ماہ پارے شام کے بعد

سنہری مچھلیاں ڈر جاتی ہیں اندھیروں سے

سو کون جھیل میں کشتی اتارے شام کے بعد

کہیں بھی دن میں بھٹکتا رہوں مگر وہ گلی

ادھر ہی راستے مڑ جائیں سارے شام کے بعد

اداس رات کے آنگن میں درد کی دیوی

بڑے ہی چاؤ سے زلفیں سنوارے شام کے بعد

کھلا تھا سامنے اک روز باب شہر بدن

کسے بتائیں جو دیکھے نظارے شام کے بعد

تمام دن پہ حکومت رہی ہماری فہیمؔ

ہم اپنے وقت کے سورج تھے ہارے شام کے بعد