میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

Aitbar Sajid

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں

کسی نے جھانک کر دیکھا نہ دل میں

کہ میں اندر سے کیسا ہو رہا ہوں

جو دل پر داغ ہیں پچھلی رتوں کے

انہیں اب آنسوؤں سے دھو رہا ہوں

سبھی پرچھائیاں ہیں ساتھ لیکن

بھری محفل میں تنہا ہو رہا ہوں

مجھے ان نسبتوں سے کون سمجھا

میں رشتے میں کسی کا جو رہا ہوں

میں چونک اٹھتا ہوں اکثر بیٹھے بیٹھے

کہ جیسے جاگتے میں سو رہا ہوں

کسے پانے کی خواہش ہے کہ ساجدؔ

میں رفتہ رفتہ خود کو کھو رہا ہوں