وہ پہلی جیسی وحشتیں وہ حال ہی نہیں رہا
Aitbar Sajidوہ پہلی جیسی وحشتیں وہ حال ہی نہیں رہا
کہ اب تو شوق راحت وصال ہی نہیں رہا
تمام حسرتیں ہر اک سوال دفن کر چکے
ہمارے پاس اب کوئی سوال ہی نہیں رہا
تلاش رزق میں یہ شام اس طرح گزر گئی
کوئی ہے اپنا منتظر خیال ہی نہیں رہا
ان آتےجاتے روز و شب کی گردشوں کودیکھ کر
کسی کے ہجر کا کوئی ملال ہی نہیں رہا
ہمارا کیا بنے گا کچھ نہ کچھ تو اس پہ سوچتے
مگر کبھی ہمیں غم مآل ہی نہیں رہا
تمہارے خال و خد پہ اک کتاب لکھ رہے تھے ہم
مگر تمہارا حسن بے مثال ہی نہیں رہا
سنوارتا نکھارتا میں کیسے اپنے آپ کو
تمہارے بعد اپنا کچھ خیال ہی نہیں رہا
ذرا سی بات سے دلوں میں اتنا فرق آ گیا
تعلقات کا تو پھر سوال ہی نہیں رہا