شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے
Faheem Jogapuriشام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے
لوٹ آئے ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہے
دیکھ کر سوکھ گیا کیسے بدن کا پانی
میں نہ کہتا تھا مری پیاس سے دریا کم ہے
خود سے ملنے کی کبھی گاؤں میں فرصت نہ ملی
شہر آئے ہیں یہاں ملنا ملانا کم ہے
آج کیوں آنکھوں میں پہلے سے نہیں ہیں آنسو
آج کیا بات ہے کیوں موج میں دریا کم ہے
اپنے مہمان کو پلکوں پہ بٹھا لیتی ہے
مفلسی جانتی ہے گھر میں بچھونا کم ہے
بس یہی سوچ کے کرنے لگے ہجرت آنسو
اپنی لاشوں کے مقابل یہاں کاندھا کم ہے
دل کی ہر بات زباں پر نہیں آتی ہے فہیمؔ
میں نے سوچا ہے زیادہ اسے لکھا کم ہے