اگر ہو ظرف سے خالی تو کیا رکھا ہے دریا میں

Faheem Jogapuri

اگر ہو ظرف سے خالی تو کیا رکھا ہے دریا میں

سمندر کو بھی میں نے ڈوبتے دیکھا ہے قطرہ میں

اجالے ڈھونڈنے والے اجالے ڈھونڈ لیتے ہیں

اندھیرا ہے مگر کچھ روشنی اب بھی ہے دنیا میں

جو حائل راستے میں ہیں وہ پربت ڈوب جائیں گے

ترے غم کے سمندر میں مرے آنسو کے دریا میں

ہزاروں پھول میں ہم بھی تو ہیں اک پھول ہی لیکن

ہمارے بعد یہ خوشبو نہ مل پائے گی دنیا میں

بدن ساگر میں اتریں کشتیاں کیا میری آنکھوں کی

تلاطم اور بڑھتا جا رہا ہے موج دریا میں

ستارے چاند سورج کہکشاں بھی خوب صورت ہیں

مگر کچھ بات ہے جانم ترے حسن سراپا میں

فہیمؔ ان کو مرا طرز بیاں اچھا نہیں لگتا

روایت سانس لیتی ہے مرے اشعار تازہ میں