آنا تھا جسے آج وہ آیا تو نہیں ہے
Faheem Jogapuriآنا تھا جسے آج وہ آیا تو نہیں ہے
یہ وقت بدلنے کا اشارا تو نہیں ہے
دعوت دے کبھی کیوں وہ محبت سے بلائے
دریا سے مری پیاس کا رشتہ تو نہیں ہے
یہ کون گیا ہے کہ جھپکتی نہیں آنکھیں
رستے میں وہ ٹھہرا ہوا لمحہ تو نہیں ہے
ہنستا ہوا چہرہ ہے دمکتا ہوا پیکر
گزرا ہوا یہ میرا زمانہ تو نہیں ہے
آنکھوں نے ابھی نیند کا دامن نہیں چھوڑا
خوابوں سے بھروسہ ابھی ٹوٹا تو نہیں ہے
دریا میں سر شام ہے ڈوبا ہوا سورج
دن بھر کا مسافر کوئی پیاسا تو نہیں ہے
چھوڑ آئے ہو جس کے لئے آنچل کی گھنی چھاؤں
اس شہر میں وہ دھوپ کا ٹکڑا تو نہیں ہے
رستے میں فہیمؔ اس کی طبیعت کا بگڑنا
گھر جانے کا اک اور بہانہ تو نہیں ہے