آنکھوں سے کسی خواب کا رشتہ ہی نہیں تھا
Faheem Jogapuriآنکھوں سے کسی خواب کا رشتہ ہی نہیں تھا
اس آئنے میں عکس ٹھہرتا ہی نہیں تھا
کیوں دیکھ رہا تھا اسے چپ چاپ زمانہ
رخصت جو ہوا صرف ہمارا ہی نہیں تھا
مہمان بنایا ہی نہیں دشت نے ورنہ
ریتوں سے جدائی کا ارادہ ہی نہیں تھا
وہ چھوڑ گیا شہر تو کیوں دل میں چبھن ہے
اس پر تو ہمارا کوئی دعویٰ ہی نہیں تھا
منسوب اسے کرتے ہو کیوں ہم سے رفیقو
ایسا تو کوئی بیچ میں وعدہ ہی نہیں تھا
یہ سوچ کے اس راہ میں ہم ہو گئے تنہا
اس بھیڑ میں اپنا کوئی چہرہ ہی نہیں تھا
ہم شہر ستم گر کو کہاں چھوڑ کے جاتے
جب اس کے علاوہ کوئی صحرا ہی نہیں تھا
پتھر نہ ہوا موم فہیمؔ اب تو یہ مانو
خورشید ہنر میں کوئی شعلہ ہی نہیں تھا