دوستی میں نہ دشمنی میں ہم
Faheem Jogapuriدوستی میں نہ دشمنی میں ہم
کیا نظر آئیں گے کسی میں ہم
کیوں سجاتے ہیں خواب صدیوں کے
چند لمحوں کی زندگی میں ہم
سیر کرتے ہیں دونوں عالم کی
اپنے خوابوں کی پالکی میں ہم
جب تمہارا خیال آتا ہے
ڈوب جاتے ہیں روشنی میں ہم
کوئی آواز کیوں نہیں دیتا
ڈگمگاتے ہیں تیرگی میں ہم
پیاس ہم کو کہیں ستاتی ہے
تیرتے ہیں کہیں ندی میں ہم
رات ہوتی تو کوئی بات نہ تھی
لٹ گئے دن کی روشنی میں ہم
اپنے ماضی سے بات کرتے ہیں
تیری یادوں کی چاندنی میں ہم