خیال و فکر کا صدقہ اتارتے رہئے
Faheem Jogapuriخیال و فکر کا صدقہ اتارتے رہئے
لہو پلا کے غزل کو سنوارتے رہئے
غرور فتح میں دشمن ضرور ڈوبے گا
ہے جیتنا تو ابھی جنگ ہارتے رہئے
نگاہ و دل سے یہ کہتی ہے آئنے کی کشش
کہیں نہ دیکھیے ہم کو نہارتے رہئے
غم و الم کی طرح دکھ بھرے دنوں جیسا
کسی بہانے ہمیں بھی گزارتے رہئے
پرانی چوٹ کی یادوں کو لے کے آنکھوں میں
جبیں پہ اور لکیریں ابھارتے رہئے
اکیلے پن سے لگے ڈر تو لازمی ہے فہیمؔ
اندھیری رات میں خود کو پکارتے رہئے