اولیں شہر کی تسخیر میں پہلو تھے بہت

Aitbar Sajid

اولیں شہر کی تسخیر میں پہلو تھے بہت

رنج کے خوف کے حیرت کے شکیبائی کے

پھر یہ دیکھا کہ تن و جاں کے اثاثے کے عوض

مٹی ہم جس پہ قدم رکھتے ہیں

جس کی ٹھوڑی پہ لہو رنگ علم رکھتے ہیں

اس کی ممتا کی حرارت سے الگ چیز نہیں

جس میں ہم اپنا نسب اپنا جنم رکھتے ہیں

اپنے ہونے کا بھرم رکھتے ہیں