خفیف لب پہ تبسم رکا رکا سا لگے

Faheem Jogapuri

خفیف لب پہ تبسم رکا رکا سا لگے

کہ کوئی غنچۂ نو رس کھلا کھلا سا لگے

جدھر بھی دیکھیے سب کچھ بھلا بھلا سا لگے

یہ تجربہ تو عجب ہی نیا نیا سا لگے

وہ جب رکے تو زمانے کی چال بڑھ جائے

وہ جب چلے تو زمانہ رکا رکا سا لگے

اکڑ کے بات کرے جب زمیں سے بات کرے

وہ آسمان جو ہر سو جھکا جھکا سا لگے

ترے بھی شہر تمنا میں آگ لگ جائے

مرا جو عالم امکاں بجھا بجھا سا لگے

جو رات آئے وہ سہمی ہوئی سی رات آئے

جو آئے دن تو وہ دن بھی ڈرا ڈرا سا لگے

ہیں ساتھ ساتھ مگر دل جدا جدا لے کر

وہ ایک گھر جہاں آنگن بٹا بٹا سا لگے

جسے سمجھتے ہو بھرپور زندگی سے فہیمؔ

قریب جاؤ تو کتنا لٹا لٹا سا لگے